عبارت (۲) : کسی کو مقرر معین نہیں کہہ سکتے کہ ’’مجدّد ہے‘‘

: علمآء حقؒ نے لکھا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ اوّل صدّی کا مجدّد ہے اور حضرت امام ربّانی مجدّد الف ثانیؓ کے بارے میں علامہ عبدالحکیم سیالکوٹیؒ نے لکھا ہے یعنی ’’الجواب الشافی فی ردّ ایرادالبرزنجی‘‘ میں کہ ھزار سال کا مجدّد ہے اور بذاتِ خود امام ربانیؓ نے مکتوبات شریف میں لکھا ہے کہ میں صلہ بین البحرین‘‘ مصلح بین الفئتین اور مجدّد الفِ ثانی ہوں اور عروۃ الوثقیٰ امام محمد معصومؓ اور دیگر اکابرِؒ نسبت مجدّدی اور علامہ قآضی ثنآء اللّٰہ فانی فتیؒ مصنّف تفسیر مظہری نے بھی تصریح فرمایا ہے کہ امام ربانیؓ مجدّد الفِ ثانی ہے اور مقام مجدّدیۃ وامامت وقطب مدار وقطب ارشاد ان کے اکابر خلفآء سلسلہؒ میں تا امام مہدیؓ جاری رہے گا ۔ شاہ ولی اللہ دھلوی اگرچہ بعض تفردات خاطئہ رکھتا ہے کما فی حسن التقاضی الکوثریؒ والفتوحات المدنیۃ لیکن اس کے باوجود اس نے اپنے فارسی رسالہ میں امام ربانیؓ کی مجدّدیت الف ثانی پر تصریح کیا ہے اور لکھا ہے کہ ’’ بلغ امرہٗ الیٰ ان لایحبّہٗ الاّ مؤمن تقیّ ولایبغضہ الاّ منافق شقی ۔ اؔسی طرح سیدنا مبارکٔ صاحبؒ کے مجدّدیت کو سیدنا حضرۃ الامام علامہ ومولانا ضیآء اللّٰہ صاحبؒ نے ’’مخزن الحقائق‘‘ میں ۳۱۸ صفحات کے ضمن میں دس ابواب کی شکل میں ثابت کیا ہے اور حضرۃ الامام علامہ بابا مبارکؓ کے مجدّدیت انھی دلائل سے اور فتوحاتِ مدنیہ سے اور خزینۃ العرفان سے اور ’’التلذذالروحانی‘‘ سے مدلّلاً ثابت ہے الحمدللّٰہ اور ابھی شیخ الحدیث مولانا عاشق اللّٰہ  صاحبؒ کے تجدیدی کاروائیاں رواں دواں ہیں تو اِن رذیل مولویوں کا مقصد  مذکورہ غلط عبارت سے امام ربانیؓ اور ان کے خلفآء سلسلہؒ کا نفی کرنا ہے معاذاللّٰہ

 جب مقرر معین نہیں کہہ سکتے تو استفاده خاص کس طرح کرینگے ؟ تاثیر صحبت ، اتباع شریعت ، احیائے سنت اور تجدیدی کام سے مجدد وقت معین ہوگا ، گواهی پیر کاملؒ اور علوم و معارف ، اسرار و دقائق سے پتہ چلے گا ۔

: إن الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها امر دينها (مشکوٰة  شریف کتاب العلم)

ھاں اگر مجدّد کے نام سے ایسا محرّف ہو جو دین میں  اپنی پیٹ سے نئی  باتیں نکالیں بخلافِ ائمہؒ  عقائد وفقہ وتصوّف کے اور اس کے توسّط سے عالَم کو فیض بھی نہ پہنچیں بلکہ فتنہ وفساد پھیل جائے جیسا کہ وھابیوں ، رافضیوں ، جبریوں ، اور دیگر زنادقہ وملحدین کے نام نہاد ’’مجدّد وحکیم امت‘‘ تو اس کو ہرگز مجدّد نہیں کہینگے کیونکہ مجدّد تو اسلافؒ  کے طرز پر احیآء دین عملاً واعتقاداً فرماتا ہے اور ائمہ دینؒ  کا تابع ومقلّد ہوتا ہے اور امت کو اس کے توسّط سے فیض الٰہیج پہنچتا ہے ۔ پورا تفصیل مکتوباتِ امام ربانیؓ اور مخزن الحقائق اور خزینۃ العرفان میں درج ہے فلیراجع ۔